| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
"شہادۃ علی الشہادۃ"میں یہ بھی ضرور ہے کہ اس کے مطابق حکم ہونے تک گواہان اصل بھی اہلیت شہادت پر باقی رہیں اور شہادت کی تکذیب نہ کریں مثلاً گواہاں فرع نے ابھی گواہی نہ دی یادی اور اس پر ہنوز حکم نہ ہوا تھا کہ گواہان اصل سے کوئی گواہ اندھا یا گونگا یا مجنون یا معاذ اﷲ مرتد ہوگیا یا کہا کہ میں نے تو ان گواہوں کو اپنی شہادت کا گواہ نہ کیا تھا یا غلطی سے گواہ کردیا تھا یہ شہادت باطل ہوجائے گی۔ درمختار میں ہے۔
تبطل شھادۃ الفروع بخروج أصلہ عن أھلیتھا کخرس وعمی وباٖنکار أصلہ الشھادۃ کقولھم مالنا شھادۃ أولم نشھد ھم او اشھدنا ھم وغلطنا ۱ھ مختصر۔(۱)
طریق سوم شھادۃ علی القضاء
یعنی دوسرے کسی اسلامی شہر میں حاکم اسلام قاضی شرع کے حضور ُرویت ہلال پر شہادتیں گذریں اور اس نے ثبوت ہلال کا حکم دیا دو شاہدان عادل اس گواہی و حکم کے وقت حاضر دارالقضاء تھے انہوں نے یہاں حاکم اسلام قاضی شرع یا وہ نہ ہو
(۱)ترجمہ:گواہ اصل کی اہلیت شھادت ختم ہونے سے گواہ فرع کی شھادت باطل ہوجائیگی جیسا کہ گونگا نابینا ہوجانا گواہ اصل شھادت کا انکار کردیں مثلاً کہیں ہم نے کوئی گواہی نہیں دی یا ہماری کوئی شھادت نہیں ہے یایہ کہ ہم نے گواہی دی تھی مگر غلط دی تھی۔
(الدرالمختار، باب الشھادت علی الشھادۃ)