ینبغی أن یذکر الفرع اسم الشاھد الأصل واسم ابیہ وجدہ حتی لوترک ذالک فالقاضی لا یقبل شھادتھما۔(۳)
(۱)ترجمہ :۔ ایک کی گواہی دوسرے پر مثلاً غلام یا عورت کی شہادت اگرچہ اپنی ہی جیسے پر ہلال رمضان میں مقبول ہے جبکہ ایک کی گواہی وہاں مسموع ہونے کے قابل ہو جیسے بحالت نا صافی مطلع۔
(الدر مختار، کتاب الصوم)
(۲)ترجمہ :۔ اگر دو گواہوں نے ایک مرد کی شہادت پر شہادت ادا کی اور ان میں ایک خود بذاتہ گواہ ہے تو یہ جائز نہیں ایسا ہی فتاویٰ عالمگیری میں محیط امام سرخسی سے ہے اور اگر ایک نے خود گواہی دی اور دوسرے دونے اور شخص کی شہادت پر شہادت ادا کی تو یہ درست ہے بزازیہ میں اس کی تصریح ہے۔ ۱۲
(ردالمحتار، باب الشھادۃ علی الشھادۃ)
(۳)ترجمہ :۔ گواہ فرع کو چاہیے کہ گواہ اصل اور اس کے باپ اور دادا سب کا نام ذکر کرے یہاں تک کہ اگر اسے چھوڑ دے گا تو حاکم اس کی گواہی قبول نہ کریگا۔
(فتاوی ہندیہ، الباب الحادی عشر فی الشھادۃ علی الشھادۃ)