Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
27 - 59
وحمام۔ قنیہ عند الشھادۃ عند القاضی قید للکل وبشرط شھادۃ عدد نصاب ولور جلا وٳمراتین عن کل أصل ولوٳمرأۃ لاتغایر فرعی ھذا وذاک۔ وکیفیتھا أن یقول الاصل مخاطبا للفرع ولوابنہ۔ بحر أشھد علی شھادتی أنی اشھد بکذا ویقول الفرع أشھدان فلانا أشھد نی علی شھادتہ بکذا وقال لی أشھد علی شھادتی بذالک ۱ ھ مختصرا۔(۱)
اسی کے بیان ہلال رمضان میں ہے۔
وَتقبل شھادۃ واحد علی
 (۱)ترجمہ :۔ گواہی پر گواہی مقبول ہے اگرچہ یکے بعد دیگرے کتنے ہی درجے تک پہنچے مثلاً گواہان اصل نے زید و عمر و کو گواہ بنایا انہوں نے اپنی اس شہادت علی الشہادۃ پر بکرو خالد کو گواہ کردیا خالد نے اپنی اس شہادۃ علی الشہادۃ پر سعید وحمید کو شاہد بنالیا وعلی ہذا القیاس اور مذہب صحیح پر یہ امر حدود وقصاص کے سوا ہر حق میں جائز ہے اس شرط سے کہ جس وقت قاضی کے حضور ادائے شہادت ہوئی اس وقت وہاں اصل گواہ کا آنا مرض یا سفر یازن پردہ نشین ہونے کے باعث متعذراہو۔ اور امام ابو یوسف کے نزدیک تین منزل دور ہونا ضرور نہیں بلکہ اتنی دوری کافی ہے کہ گواہی دے کر رات کو اپنے گھر نہ پہنچ سکے بکثرت مشائخ نے اسی قول کو پسند کیا اور قہستانی و سراجیہ میں ہے کہ اسی پر فتویٰ ہے مصنف نے اسے مسلم رکھا۔ اور عورت کی پردہ نشینی یہ کہ مردوں کی مجمع سے بچتی ہو اگرچہ اپنی کسی ضرورت کے لئے باہر نکلے یا حمام جائے ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ ہر اصل گواہ اگرچہ عورت کی گواہی پر پورا نصاب شہادت یعنی دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں گواہی دیں ہاں یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ اصل کے دو دو جداگانہ گواہ ہوں۔ اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ گواہ اصل گواہ فرع سے اگرچہ وہ اس کا بیٹا ہو خطاب کرکے کہے تو میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں اور گواہ فرع یوں ادائے شہادت کرے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں نے مجھے اس گواہی پر گواہ کیا اور مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا۔ 

                           (الدرمختار، باب الشھادۃ علی الشھادۃ)
Flag Counter