دیکھا گواہان فرع یہاں آکر یوم شہادت دیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں بن فلاں نے مجھے اپنی اس گواہی پر گواہ کیا کہ فلاں بن فلاں مذکور نے ماہ فلاں سن فلاں کا ہلال فلاں دن کی شام کودیکھا اور فلاں بن فلاں مذکور نے مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا۔
پھر اصل شہادت رُؤیَت میں اختلاف احوال کے ساتھ جو احکام گذرے ان کا لحاظ ضرور ہے مثلاً ماہ رمضان میں مطلع صاف تھا تو صرف ایک کی گواہی مسموع نہ ہونی چاہے جب تک جنگل میں یا بلند مکان پر دیکھنا نہ بیان کرے ورنہ ایک کی شہادت اور اس کی شہادت پر بھی صرف ایک ہی شاہد اگرچہ کنیز مستورۃ الحال ہو بس ہے۔ اور باقی مہینوں میں یہ تو ہمیشہ ضرور ہے کہ ہر گواہ کی گواہی پر دو مرد یا ایک مرد دو عورت عادل گواہ ہوں اگرچہ یہی دو مرد ان دو اصل میں ہر ایک کے شاہد ہوں۔ مثلاً جہاں عیدین میں صرف دو عادلوں کی گواہی مقبول ہے زید و عمرو دو عادلوں نے چاند دیکھا اور ہر ایک نے اپنی شہادت پر بکر و خالد دو مرد عادل کو گواہ کردیا کہ یہاں آکر بکر اور خالد ہر ایک نے زید و عمر و دونوں کی گواہی پر گواہی دی، کافی ہے، یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ کے جدا جدا دو گواہ ہوں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اصل خود آکر گواہی دے اور دوسرا گواہ اپنی گواہی پر دو گواہ جداگانہ کر بھیجے ہاں یہ جائز نہیں کہ ایک گواہ اصل کے دو گواہ ہوں اور انہیں دونوں میں سے ایک خود اپنی شہادت ذاتی بھی دے۔
درمختار میں ہے۔