| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
ٳذ اخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالأمور موکلۃ الی العلماء ویلزم الأمۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاٖذا عشر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استو وا أقرع بینھم۔(۱)
طریق دوم شھادۃ علی الشھادۃ
یعنی گواہوں نے چاند خود نہ دیکھا بلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی اور اپنی گواہی پر انہیں گواہ کیا انہوں نے اس گواہی کی گواہی دی۔ یہ وہاں ہے کہ گواہان اصل حاضری سے معذور ہوں۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ گواہ اصل، گواہ سے کہے میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں گواہی دیتاہوں میں نے فلاں ماہ فلاں سن کاہلال فلاں دن کی شام کو
(۱)ترجمہ :۔جب زمانہ ایسے سلطان سے خالی ہو جو معاملات شرعیہ میں کفایت کرسکے تو شرعی سب کام علماء کو سپرد ہوں گے اور مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ اپنے ہر معاملہ شرعیہ میں ان کی طرف رجوع کریں وہ علماء ہی قاضی و حاکم سمجھے جائیں گے پھر اگر سب مسلمانوں کا ایک عالم پر اتفاق مشکل ہو تو ہر ضلع کے لوگ اپنے علماء کا اتباع کریں اگر ضلع میں عالم کثیر ہوں تو جو سب میں زیادہ احکام شریعت کا علم رکھتا ہے اس کی پیروی ہوگی اور اگر علم میں برابر ہوں تو قرعہ ڈال لیں ۱۲ منہ۔
(الحدیقۃ الندیۃ، النوع الثالث من النواع العلوم الثلاثۃ)