Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
24 - 59
بالرویۃ خلاف الظاھرالخ (۱)قولہ وبقیۃ الاشھر لایقبل فیھا الاشھادۃ رجلین أورجل وٳمرأتین عدول أحرار غیر محدودین کما فی سائر الأحکام۔ بحر عن شرح مختصر الطحاوی للاٖ مام الاسبیجابی۔ والظاھرأنہ فی الاٖ ھلۃ التسعۃ لا فرق بین الغیم والصحوفی قبول الرجلین لفقد العلۃ الموجبۃ لاٖشتراط الجمع الکثیر وھی توجہ الکل طالبین ویؤیدہ قولہ کما فی سائر الأحکام ۱ھ ملتقطا۔(۲)
 (۱)اور کافی حاکم میں جس میں امام محمد کا تمام کلام کتب ظاہر الروایۃ کا جمع فرمادیا ہے یوں ہے کہ رمضان میں ایک مسلمان مرد یا عورت عادل یا مستور الحال کی گواہی مقبول ہے جبکہ یہ گواہی دے کہ اس نے جنگل میں دیکھا یا شہر میں دیکھا اور کوئی سبب ایسا تھا جس کے باعث اوروں کو نظر نہ آیا انتہی ۔ اور ان دونوں روایتوں میں منافات نہیں اس لئے کہ جماعت عظیم کی شرط وہاں ہے کہ گواہ شہر میں غیر مکان بلند پر ہو۔ تو یہ پچھلی روایت اس پہلی کے اطلاق کی قید بتاتی ہے۔ اور اس پر دلیل یہ کہ پہلی میں ایک کی گواہی نہ ماننے کی وجہ یہ فرمائی تھی کہ تنہا اس کا دیکھنا غلطی میں ظاہر ہے ۔

                              (ردالمختار ،کتاب الصوم)

(۲)اور اس پچھلی صورت میں یعنی جبکہ وہ جنگل میں یا بلند مکان پر تھا وہ رد کی وجہ نہ پائی گئی،اس لئے محیط میں فرمایا کہ اس حالت میں تنہا اس کا دیکھنا خلاف ظاہر نہ ہوگا۔اور باقی نو مہینوں میں مقبول نہ ہوگی مگر گواہی دو مردوں یا ایک مرد د وعورتوں عادل آزاد کی جن پر حد قذف نہ لگ چکی ہو جیسے باقی تمام معاملات میں ۔اسی طرح بحر الرائق میں امام اسبیجابی کی شرح مختصر طحاوی سے ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ ان نو چاندوں میں صفاو عدم صفائی مطلع کا کچھ فرق نہیں ہر حال میں دو کی گواہی قبول ہوگی کہ وہ وجہ جو وہاں شرط جماعت عظیم کی باعث تھی کہ سب ہلال کو تلاش کرتے ہیں یہاں موجود نہیں کہ ان نو مہینوں کا چاند عام لوگ تلاش نہیں کرتے ہیں اور اس کی تائید کرتا ہے امام اسبیجابی کا وہ فرمانا کہ ان میں وہ درکار ہے جو باقی تمام معاملات میں(درکارہے)              (ردالمحتار، کتاب الصوم)
Flag Counter