Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
23 - 59
قولہ ''واختارہ فی البحر'' حیث قال ینبغی العمل علی ھذہ الروایۃ فی زما ننالأن الناس تکاسلت عن ترائی الأھلۃ فانتفی قولھم مع توجھھم طالبین وظاھر الو لوالجیۃ والظھیریۃ یدل علی أن ظاھر الروایۃ ھو اشتراط العدد' والعدد یصدق باثنین ۱ھ وفی زماننا نشاھد تکاسل الناس فلیس فی شھادۃ الاثنین تفرد من بین الجم الغفیر حتی یظھر غلط الشاھد فانتفت علۃ ظاھر الروایۃ فتعین الافتاء بالروایۃ الاخریٰ(۱)وفی کافی الحاکم الذی ھو جمع کلام محمد فی کتبہ ظاھر الروایۃ تقبل شھادۃ المسلم والمسلمۃ عدلا کان او غیر عدل بعدان یشھدانہ رأی خارج المصر اوأنہ رآہ فی المصر مع علۃ تمنع العامۃ من التساوی فی رؤیتہ ۱ھ ولا منافاۃ بینھما لأن اشتراط الجمع العظیم اٖذا کان الشاھد من المصر فی غیر مکان مرتفع فالثانیۃ مقیدۃ لاِطلاق الاولیٰ بدلیل أن الاولیٰ علل فیھا ردالشھادۃ بأن التفرد ظاھر فی الغلط و علی مافی الثانیۃ لم توجد علۃ الردولھذا قال فی المحیط فلا یکون تفردہ
 (۱)ترجمہ :اور بحر الرائق میں فرمایا کہ جب لوگ چاند دیکھنے میں کاہلی کریں تو اس روایت پر عمل چاہے کہ دوگواہ کافی ہیں کہ اب وہ وجہ نہ رہی کہ سب چاند دیکھنے میں مصروف تھے اور مطلع صاف تھا تو فقط انہیں دو کو نظر آنا بعید ازقیاس ہے۔ اور والوالجیہ و ظہیر یہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظاہر الروایۃ میں صرف تعدّدِ گواہان کی شرط ہے اور تعدد دو سے بھی ہوگیا انتہی ۔ اور ہمارے زمانے میں لوگوں کا کسل آنکھوں دیکھا ہے تو دو کی گواہی کو یہ نہ کہیں گے کہ جمہور کے خلاف انہیں کو کیسے نظر آگیا جس سے گواہ کی غلطی ظاہر ہو۔ تو ظاہر الروایۃ کی وجہ نہ رہی ' تو اس دوسری روایت پر فتویٰ دینا لازم ہوا۔(ردالمحتار، کتاب الصوم)
Flag Counter