(۱)ترجمہ :۔ ابرو غبار کی حالت میں ہلال رمضان کے لئے ایک عادل یا مستورالحال کی خبر
کافی ہے اگر چہ غلام یا عورت ہورُؤیت کی کیفیت بیان کرے خواہ نہ کرے دعویٰ یا لفظ اشھد یا حکم یا مجلس قاضی کسی کی شرط نہیں، مگر فاسق کا بیان بالاتفاق مردود ہے، اور عید کے لئے بحال ناصافئ مطلع عدالت کے ساتھ دو مرد یا ایک مرددو عورت کی گواہی بلفظ اشھد،، ضرور ہے، اور اگر ایسے شہر میں ہوں جہاں کوئی حاکم اسلام نہیں تو بوجہ ضرورت بحال ابرو غبار ایک ثقہ شخص کے بیان پر روزہ رکھیں اور دو عادلوں کی خبر پر عید کرلیں، اور جب ابرو غبارنہ ہو تو ایسی بڑی جماعت کی خبر مقبول ہوگی جس سے ظن غالب حاصل ہوجائے اور امام سے مروی ہوا کہ دو گواہ کافی ہیں اور اسی کو بحر الرائق میں اختیار کیا،اور کتاب الاقضیہ میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ ایک بھی کافی ہے اگر جنگل سے آئے یا بلند مکان پر تھا،اور اسی کو امام ظہیر الدین نے اختیار فرمایا اور ذی الحجہ اور باقی نو مہینوں کے چاند کا وہی حکم ہے جو ہلال عید الفطر کا۔(الدرمختار، کتاب الصوم)
(۲)ترجمہ :۔ جب آسمان صاف ہو تو ہلال روزہ و عید کے قبول کو جماعت عظیم کی خبر ضرور ہے اس لئے کہ بڑی جماعت کہ وہ بھی چاند دیکھنے میں مصروف تھی اس میں سے صرف دو ایک شخص کو نظر آنا حالانکہ مطلع صاف ہے ان دو ایک کی خطا میں ظاہر ہے۔ ایسا ہی بحرا لرائق میں ہے ۔ اور جماعت عظیم میں عدالت شرط نہیں ۔ ایسا ہی امداد الفتاح میں ہے۔ نہ آزادی شرط ہے۔ ایسا ہی قہستانی میں ہے۔(الدرمختار، کتاب الصوم)