اس مہینے کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو مفتی اسلام اس کا قائم مقام ہے جبکہ تمام اہل شہر سے علم فقہ میں زائد ہو،اس کے حضور گواہی دیں اور اگر کہیں قاضی و مفتی کوئی نہ ہو تو مجبوری کو اور مسلمانوں کے سامنے ایسے عادل دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کا بیان بے لفظ اشھد بھی کافی سمجھا جائے گا۔
ان گیارہ ہلالوں میں ہمیشہ یہی حکم ہے۔ مگر عیدین میں اگر مطلع صاف ہو اور مسلمان رویت ہلال میں کاہلی نہ کرتے ہوں اور وہ دو گواہ جنگل یا بلندی سے نہ آئے ہوں تو اس صورت میں وہی جماعت عظیم درکار ہے۔ اسی طرح جہاں اور کسی چاند مثلاً ہلالِ محرم کا عام مسلمان پورا اہتمام کرتے ہوں تو بحالت صفائی مطلع جب کہ شاہدین جنگل یا بلندی سے نہ آئیں ظاہراً جماعت عظیم ہی چاہے کہ جس وجہ سے اس کا ایجاب رمضان و عیدین میں کیا گیا تھا۔ یہاں بھی حاصل ہے۔
در مختار میں ہے۔