ہلال رمضان مبارک کے لئے ایک ہی مسلمان عاقل بالغ غیر فاسق کا مجرد بیان کافی ہے کہ میں نے اس رمضان شریف کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اگرچہ کنیز ہو، اگرچہ مستور الحال ہو جس کی عدالت باطنی معلوم نہیں ظاہر حال پابند شرع ہے، اگرچہ اس کا یہ بیان مجلس قضا میں نہ ہو،اگرچہ ''گواہی دیتا ہوں'' نہ کہے۔ نہ دیکھنے کی کیفیت بیان کرے کہ کہاں سے دیکھا کدھر کو تھا کتنا اونچا تھا، وغیرہ ذلک یہ اس صورت میں ہے کہ ۲۹ شعبان کو مطلع صاف نہ ہو چاند کی جگہ ابریا غبار ہو۔ اور بحال صفائی مطلع اگر ویسا ایک شخص جنگل سے آیا یا بلند مکان پر تھا تو بھی ایک ہی کا بیان کافی ہوجائے گا ورنہ دیکھیں گے کہ وہاں کے مسلمان چاند دیکھنے میں کوشش رکھتے ہیں بکثرت لوگ متوجہ ہوتے ہیں،یا کاہل ہیں دیکھنے کی پرواہ نہیں۔ بے پرواہی کی صورت میں کم سے کم دودر کارہوں گے اگرچہ مستور الحال ہوں۔ ورنہ ایک جماعت عظیم چاہے کہ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرے جس کے بیان سے خوب غلبہ ظن حاصل ہوجائے کہ ضرور چاند ہوا اگرچہ غلام یاکھلے فساّق ہوں۔ اور اگر کثرت حدِ تو اتر کو پہنچ جائے کہ عقل اتنے شخصوں کا غلط خبر پر اتفاق محال جانے تو ایسی خبر مسلم و کافر سب کی مقبول ہے۔
باقی گیارہ ہلالوں کے واسطے مطلقاً ہر حال میں ضرور ہے کہ دو مرد عادل' یا ایک مرد دوعورتیں عادل، آزاد،جن کا ظاہری و باطنی حال تحقیق ہو کہ پابند شرع ہیں،قاضی شرع کے حضور بلفظ اَشْھَدُ گواہی دیں یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے