چراغاں کرنااسی وقت قابل اعتبارہے جبکہ اس شہرمیں رؤیت ہلال کاثبوت ایسے حاکم اسلام کے یہاں شہادتیں گذرنے سے ہوتاہوجوکہ خودعالم ہواوراپنے علم پرعمل کرنے والابھی ہویاخودتوعالم نہیں مگرکسی قابل اعتمادمحقق عالم کے فتویٰ پرعمل کرتاہو۔
پاکستان میں عام طورپرحاکم وقت عالم تونہیں ہوتامگر وہ رؤیت ہلال کے مسئلے میں ُرؤیت ہلال کمیٹی میں شریک علماء کی رائے پرعمل پیراہوتاہے اورالحمدللہ تعالی ُرؤیت ہلال کمیٹی کبھی علماء اہلسنت کے بغیر تشکیل نہیں پاتی ۔ لہذاجب رویت ہلال کمیٹی شرعی ثبوت کے بعد ہلال رمضان کااعلان ریڈیویاٹی وی پر کرے یاان کے اعلان کوکوئی اورریڈیویاٹی وی پر بیان کرے تو اس سے ہلال رمضان ثابت ہوجائے گا۔
ہاں اس پر ایک اعتراض کیا جاسکتاہے کہ بعض اوقات اعلان کرنے والے علماء نہیں ہوتے بلکہ فاسق مردیافاسقہ عورت اعلان کرتی ہے اوریہ دیانت کامعاملہ ہے چنانچہ ان فاسقوں کی خبر سے ُرؤیت ہلال ثابت نہ ہوگی۔ اس کاجواب فقہاء کرام کی عبارات سے واضح ہے کہ اگرحاکم اسلام کامنادی فاسق بھی ہوتوبھی اس کااعلان مقبول ہے۔عالمگیری ج ۴ ص ۸۶ پر ہے