Brailvi Books

صبح بہاراں
22 - 35
فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم:جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفا کی۔ (عبد الرزاق)

شریفمیں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے ، ہمارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فتحِ مکّہ کے بعد کعبۃُ الْمُشَرَّفہکو بُتوں سے پاک فرمادیا لہٰذا نقشے میں بھی بُت (گُڑیاں ) نہیں ہونے چاہئیں ،اس کی جگہ پلاسٹک کے پُھول رکھے جاسکتے ہیں۔(طوافِ کعبہ کے منظر کی تصویر جس میں چہرے واضِح نظر نہیں آتے اُس کو مسجِد یا گھر وغیرہ میں لگانا جائز ہے،ہاں جس تصویر کو زَمین پر رکھ کر کھڑے کھڑے دیکھنے سے چِہرہ واضِح نظر آئے اُسکا آویزاں کرنا ناجائز وگناہ ہے)
[3]:ایسے ’’باب‘‘(GATE)لگانا جائز نہیں جن میں مَور وغیرہ بنے ہوئے ہوں۔ جانداروں کی تصاویر کی مَذَمَّت میں دو احادیثِ مبارَکہ پڑھئے اور خوفِ خُداوندی سے لرزئیے :{۱}(رَحمت کے ) فِرِشتے اُس گھر میں داخِل نہیں ہوتے جس گھر میں کُتّا یا تصویر ہو۔ ( بُخاری ج۲ ص ۴۰۹ حدیث ۳۳۲۲) {۲}جو کوئی (جاندارکی)تصویر بنائے گا اللہ تَعَالٰی اُس کو اُس وقت تک عذاب دیتا رہے گا جب تک اُس تصویر میں رُوح نہ پُھونک دے اور وہ اُس میں کبھی بھی رُوح نہ پُھونک سکے گا۔(صَحیح بُخاری ج۲ ص ۵۱ حدیث ۲۲۲۵)
[4]: جشنِ ولادت کی خوشی میں بعض جگہ گانے باجے بجائے جاتے ہیں ایسا کرنا شَرْعاً گناہ ہے۔ اِس سلسلے میں دو رِوایات پیشِ خدمت ہیں:{۱} سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’مجھے ڈھول اور بانسری توڑنے کا حکم دیا گیا