فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم:جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام دُرود ِپاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شَفاعت ملے گی۔(مجمع الزوائد)
بَلْب تو ضَرور روشن کیجئے۔ ربیع النور شریف کی بارھویں رات حُصُولِ ثواب کی نیّت سے اجتِماعِ ذِکر و نعت میں شرکت کیجئے اور صُبحِ صادِق کے وَقت سبز سبز پرچم اُٹھائے دُرُودوسلام پڑھتے ہوئے اشکبار آنکھو ں کے ساتھصبحِ بہاراں کا اِستِقبال کیجئے۔ 12ربیعُ النُّور شریف کے دن ہو سکے تو روزہ رکھ لیجئے کہ ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیر شریف کو روزہ رکھ کر اپنا یومِ وِلادت مناتے تھے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو قَتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں پِیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیاگیا توارشاد فرمایا:’’ اِسی دن میری وِلادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وَحی نازِ ل ہوئی۔‘‘ (صَحیح مُسلِمص۵۹۱ حدیث۱۹۸۔(۱۱۶۲))شارِح صحیح بُخاری حضرت سیِّدُنا امام قسطلانی رَحْمَۃُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اور ولادت باسعادت کے ایّام میں محفلِ میلاد کرنے کے خواص سے یہ اَمْرمُجرَّب(یعنی تجرِبہ شدہ) ہے کہ اس سال اَمْن و اَمان رہتا ہے اور ہر مُراد پانے میں جلدی آنے والی خوشخبری ہوتی ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس شخص پر رَحمت نازِل فرمائے جس نے ماہِ ولادت کی راتوں کو عید بنا لیا۔‘‘ (مواہِبُ لَّدُنیَّہ ج۱ ص۱۴۸ )
[2]:کعبۃُ اللہ شریفکے نقشے (MODEL)میں مَعَاذَ اللہ کہیں کہیں گُڑیوں کا طواف دکھایا جاتا ہے،یہ گناہ ہے۔زمانۂ جاہلیَّت میں کعبۃُُ اللہ