(4): سودسے بچنے کی ایک صورت بیع عینہ ہے امام محمد رَحِمَہُ اللّٰہِ تَعَالٰی نے فرمایا: بیع عِینہ مکروہ ہے کیونکہ قرض کی خوبی اور حسن سلوک سے محض نفع کی خاطر بچنا چاہتا ہے اور امام ابویوسف رَحِمَہُ اللّٰہِ تَعَالٰی نے فرمایا: کہ اچھی نیت ہو تو اس میں حرج نہیں بلکہ بیع کرنے والا مستحق ثواب ہے کیونکہ وہ سود سے بچنا چاہتا ہے۔ مشایخ بلخ نے فرمایا: بیع عِینَہ ہمارے زمانہ کی اکثر بیعوں سے بہتر ہے۔ بیع عینہ کی صورت یہ ہے ایک شخص نے دوسرے سے مثلاً دس روپے قرض مانگے اُس نے کہا میں قرض نہیں دونگا یہ البتہ کرسکتا ہوں کہ یہ چیز تمہارے ہاتھ بارہ روپے میں بیچتا ہوں اگر تم چاہو خریدلو اسے بازار میں دس روپے کو بیع کردینا تمھیں دس روپے مل جائیں گے اور کام چل جائے گااور اسی صورت سے بیع ہوئی۔ بائع (بیچنے والے) نے زیادہ نفع حاصل کرنے اور سود سے بچنے کا یہ حیلہ نکالا کہ دس کی چیز بارہ میں بیع کردی اُس کا کام چل گیا اور خاطر خواہ اس کو نفع مل گیا۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ تیسرے شخص کو اپنی بیع میں شامل کریں یعنی مقرِض (قرض خواہ،قرض دینے والا) نے قرضدار کے ہاتھ اُس کو بارہ میں بیچا اور قبضہ دیدیاپھر قرضدار نے ثالث کے ہاتھ دس روپے میں بیچ کر قبضہ دیدیا اس نے مقرض کے ہاتھ دس روپے میں بیچااور قبضہ دیدیا اور دس روپے ثمن کے مقرض سے وصول کرکے قرضدار کو دیدے نتیجہ یہ ہوا کہ قرض مانگنے والے کو دس روپے وصول ہوگئے مگر بارہ دینے پڑیں گے کیونکہ وہ چیز بارہ میں خریدی ہے۔(1 ) (خانیہ، فتح، ردالمحتار)
()الفتاوی الخانیۃ،کتاب البیع، فصل فیما یکون فراراً عن الربا،ج1،ص408.وفتح القدیر، کتاب الکفالۃ،ج6، ص324۔ وردالمحتار،کتاب البیوع، باب الصرف، مطلب:فی بیع العینۃ،ج7،ص576