Brailvi Books

سود اور اس کا علاج
81 - 84
روپے میں خریدلی یہ بیع جائز ہے۔ مقرض نے سوروپے دیئے اور ایک سود س روپے مستقرض کے ذمہ لازم ہوگئے اور اگر مستقرض کے پاس کوئی چیز نہ ہو جس کو اس طرح بیع کرے تو مقرض مستقرض کے ہاتھ اپنی کوئی چیز ایک سودس روپے میں بیع کرے اور قبضہ دیدے پھر مستقرض اُسکی غیرکے ہاتھ سوروپے میں بیچے اور قبضہ دیدے پھر اس شخص اجنبی سے مقرض سوروپے میں خریدلے اورثمن اداکردے اوروہ مستقرض کو سوروپے ثمن ادا کردے۔ نتیجہ یہ ہواکہ مقرض کی چیز اُس کے پاس آگئی اور مستقرض کو سوروپے مل گئے مگر مقرض کے اس کے ذمہ ایک سو دس روپے لازم رہے۔ (1 ) (خانیہ) 
(3): مقرض نے اپنی کوئی چیز مستقرض کے ہاتھ تیرہ روپے میں چھ مہینے کے وعدہ پر بیع کی اور قبضہ دیدیا پھر مستقرض نے اسی چیز کو اجنبی کے ہاتھ بیچااور اس بیع کا اقالہ کرکے پھر اسی کومقرض کے ہاتھ دس روپے میں بیچا اور روپے لے لیے اس کابھی یہ نتیجہ ہوا کہ مقرض کی چیز واپس آگئی اور مستقرض کو دس روپے مل گئے مگر مقرض کے اس کے ذمہ تیرہ روپے(2 ) واجب ہوئے۔(3 ) (خانیہ) 
(1)الفتاوی الخانیۃ،کتاب البیع، فصل فیما یکون فراراً عن الربا،ج1،ص408
(2)اس صورت میں اگر چہ یہ بات ہوئی کہ جو چیز جتنے میں بیع کی قبل نقد ثمن مشتری سے اُس سے کم میں خریدی مگر چونکہ اس صورت مفروضہ میں ایک بیع جو اجنبی سے ہوئی درمیان میں فاصل ہوگئی لہٰذا یہ بیع جائز ہے۔ 
(3)الفتاوی الخانیۃ،کتاب البیع،فصل فیما یکون فراراً عن الربا،ج1،ص408