Brailvi Books

سود اور اس کا علاج
80 - 84
ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوا کہ بات وہی ہے کہ عمدہ کھجوریں خرید نا چاہتے ہیں مگر اپنی کھجوریں زیادہ دیکر لیتے ہیں سود ہوتا ہے۔ اور اپنی کھجوریں روپیہ سے بیچ کراچھی کھجوریں خریدیں یہ جائز ہے۔ اسی وجہ سے امام قاضی خاں اپنے فتاوٰے میں سودسے بچنے کی صورتیں لکھتے ہوئے یہ تحریر فرماتے ہیں وَ مثل ھذاروی عن رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم انہ امر بذلک۔ ( 1) 
اس مختصر تمہید کے بعد صدرُ الشَّریعہ نے سود سے بچنے کے بارے میں علما سے مروی چار صورتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
(1): ایک شخص کے دوسرے پر دس روپے تھے اُس نے مدیون سے کوئی چیز اُن دس روپوں میں خریدلی اور مبیع پرقبضہ بھی کرلیا پھراُسی چیز کو مدیون کے ہاتھ بارہ میں ثمن وصول کرنے کی ایک میعاد مقرر کرکے بیچ ڈالا اب اس کے اُس پردس کی جگہ بارہ ہوگئے اور اسے دو روپے کا نفع ہوااور سودنہ ہوا۔ (2 ) (خانیہ) 
(2): ایک نے دوسرے سے قرض طلب کیا وہ نہیں دیتا اپنی کوئی چیز مقرِض ( قرض دینے والے) کے ہاتھ سوروپے میں بیچ ڈالی اُس نے سوروپے دیدیئے اور چیز پر قبضہ کرلیا پھرمُستَقرِض (قرض لینے والے) نے وہی چیز مقرض سے سال بھر کے وعدہ پرایک سودس
(1)الفتاوی الخانیۃ،کتاب البیع،فصل فیمایکون فراراًعن الربا،ج2،ص408
(2)المرجع السابق