Brailvi Books

سود اور اس کا علاج
79 - 84
صحیحین میں ابو سعید خدری وابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک شخص کو خیبر کا حاکم بناکر بھیجا تھا، وہ وہاں سے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ) کی خدمت میں عمدہ کھجوریں لائے۔ ارشاد فرمایا :”کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہوتی ہیں؟“عرض کی، نہیں یا رسول اﷲ! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ)  ہم دو صاع کے بدلے ان کھجوروں کا ایک صاع لیتے ہیں اور تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں۔ فرمایا:”ایسا نہ کرو، معمولی کھجوروں کو روپیہ سے بیچو پھر روپیہ سے اس قسم کی کھجوریں خریدا کرو اور تول کی چیزوں میں بھی ایسا ہی فرمایا۔“( 1) 
صحیحین میں ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی، بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں برنی کھجوریں لائے۔ ارشاد فرمایا :”کہاں سے لائے؟“ عرض کی، ہمارے یہاں خراب کھجوریں تھیں، اُن کے دو صاع کو ان کے ایک صاع کے عوض (بدلے) میں بیچ ڈالا۔ ارشاد فرمایا:”افسوس یہ تو بالکل سود ہے، یہ تو بالکل سود ہے، ایسانہ کرنا ہاں اگر ان کے خریدنے کا ارادہ ہو تو اپنی کھجوریں بیچ کر پھر انکو خریدو۔“(2 ) 
(1)صحیح البخاري،کتاب البیوع،باب اذا اراد بیع تمر...إلخ،الحدیث:2201، 2302، ج2،ص44،79.
(2)صحیح البخاري،کتاب الوکالۃ،باب اذا باع الوکیل...إلخ، الحدیث:2312، ج2، ص83.