Brailvi Books

سود اور اس کا علاج
78 - 84
 اور قرض دینے والا جس ناجائز نفع کا خواہش مند تھا اُس کے لیے جائز طریقہ پرنفع حاصل ہوسکتا ہے۔ صرف لین دَین کی صورت میں کچھ ترمیم (تبدیلی) کرنی پڑے گی۔ مگر نا جائز وحرام سے بچاؤ ہوجائے گا۔
شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ دل میں جب یہ ہے کہ سو(100)دیکر ایک سودس (110)لیے جائیں۔ پھر سود سے کیونکر بچے ہم اُس کے لیے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ شرع مطہر نے جس عقد کو جائز بتایا وہ محض اس تخیل ( قیاس،خیال) سے ناجائز و حرام نہیں ہوسکتا۔ دیکھو اگر روپے سے چاندی خریدی اور ایک روپیہ کی ایک بھر سے زائد لی یہ یقینا سودو حرام ہے۔ صاف حدیث میں تصریح ہے، ”اَلْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ مَثَلاً بِمَثَلٍ یَداً بِیَدٍ وَالْـفَضْلُ رِبًا“اور اگر مثلاً ایک گنی (سونے کا ایک انگریزی سکہ ) جو پندرہ روپے کی ہواُس سے پچیس روپے بھر یا اور زیادہ چاندی خریدی یا سولہ آنے پیسوں کی دو روپیہ بھر خریدی اگرچہ اس کامقصود بھی وہی ہے کہ چاندی زیادہ لی جائے مگر سودنہیں اور یہ صورت یقیناً حلال ہے، حدیث صحیح میں فرمایا :”اِذَا اِخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَبِیْعُوْاکَیْفَ شِئْتُمْ۔“  معلوم ہوا کہ جواز و عدمِ جواز نوعیت عقد پر ہے۔ عقد بدل جائے گا حکم بدل جائے گا۔ اس مسئلہ کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہم دو ٢ حدیثیں ذکر کرتے ہیں۔