چاہتے نہیں اور اہل حاجت اپنی حاجت کے سامنے اس کا لحاظ بھی نہیں کرتے کہ سودی روپیہ لینے میں آخرت کا کتنا عظیم وبال (بہت بڑا عذاب)ہے اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ لڑکی لڑکے کی شادی۔ ختنہ اور دیگر تقریبات شادی وغمی میں اپنی وسعت سے زیادہ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ برادری اور خاندان کے رسوم میں اتنے جکڑ ے ہوئے ہیں (پھنسے ہوئے ہیں) کہ ہر چند کہیے ایک نہیں سنتے رسوم میں کمی کرنے کو اپنی ذلت سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اولاً تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ان رسوم کی جنجال (بوجھ، آفت) سے نکلیں،چادرسے زیادہ پاؤں نہ پھیلائیں اور دُنیا و آخرت کے تباہ کن نتائج سے ڈریں۔ تھوڑی دیر کی مسرت (خوشی) یا ابنائے جنس میں نام آوری (یعنی قبیلے کے افرادمیں شہرت) کا خیال کرکے آئندہ زندگی کو تلخ (دشوار) نہ کریں۔ اگر یہ لوگ اپنی ہٹ سے باز نہ آئیں قرض کا بارگراں (بھاری بوجھ) اپنے سرہی رکھنا چاہتے ہیں بچنے کی سعی (کوشش) نہیں کرتے جیسا کہ مشاہدہ اسی پر شاہد ہے تو اب ہماری دوسری فہمائش ان مسلمانوں کو یہ ہے کہ سودی قرض کے قریب نہ جائیں۔
کہ بنص قطعی قرآنی اس میں برکت نہیں اور مشاہدات وتجربات بھی یہی ہیں کہ بڑی بڑی جائدادیں سود میں تباہ ہوچکی ہیں یہ سوال اس وقت پیش نظر ہے کہ جب سودی قرض نہ لیا جائے تو بغیر سودی قرض کو ن دیگا پھر اُن دُشواریوں کو کس طرح حل کیا جائے۔ اس کے لیے ہمارے علمائے کرام نے چند صورتیں ایسی تحریر فرمائی ہیں کہ اُن طریقوں پرعمل کیا جائے توسود کی نجاست ونحوست (ناپاکی اور برے اثر) سے پناہ ملتی ہے