سیِّدَتُنا ہاجَرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا میں کچھ چَپقَلِش ہو گئی ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو میں ہاجَرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا کوئی عُضو کاٹوں گی ۔
الله عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا جبر ئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کوحضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کی خدمت میں بھیجا کہ ان میں صُلح کروا دیں ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی:”مَاحِیلَۃُ یَمِیْنِی؟“ یعنی میری قسم کا کیا حِیلہ ہو گا ؟ تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ پر وَحی نازِل ہوئی کہ (حضرتِ)سارہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)کو حکم دو کہ وہ (حضرتِ) ہاجَرہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)کے کان چَھید دیں ۔ اُسی وَقْت سے عورَتوں کے کان چَھیدنے کا رَواج پڑا۔( 1)
سود سے بچنے کی صورتیں:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب، ”بہارِ شریعت“ جلد دوم صَفْحَہ 776 تا 779 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ شریعتِ مطہرہ نے جس طرح سود لینا حرام فرمایا سود دینا بھی حرام کیا ہے۔ حدیثوںمیں دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ دونوں برابر ہیں۔ آج کل سود کی اتنی کثرت ہے کہ قرضِ حسن جو بغیر سودی ہوتا ہے بہت کم پایا جاتا ہے دولت والے کسی کو بغیر نفع روپیہ دینا
(1)غمزعیون البصائر شرح الَاشباہ والنظائر، ج3، ص295