الله تبارَکَ وَ تَعالیٰ پارہ 23 سورۂ صٓکی آیت نمبر 44 میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ(پ23، ص 44)
ترجمۂ کنز الایمان: اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک (سو تنکوں والا) جھاڑو لے کر اس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔
”عالمگیری“ میں حیلوں کا ایک مستقل باب ہے جس کا نام ” کتابُ الحِیَل“ ہے۔ چُنانچِہ، ”عالمگیری کتابُ الحِیَل“میں ہے،”جو حِیلہ کسی کا حق مارنے یا اس میں شُبہ پیدا کرنے یا باطِل سے فَریب دینے کےلئے کیا جائے وہ مکروہ ہے اور جو حِیلہ اِس لئے کیا جائے کہ آدَمی حرام سے بچ جائے یا حلال کو حاصل کر لے وہ اچّھا ہے ۔ اس قسم کے حِیلوں کے جائز ہونے کی دلیل الله عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان ہے:
وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ(پ23، ص 44)
ترجمۂ کنز الایمان: اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک (سو تنکوں والا) جھاڑو لے کر اس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔
کان چَھیدنے کا رَواج کب سے ہوا؟
حیلے کے جَواز پر ایک اور دلیل مُلا حَظہ فرمایئے۔ چُنانچِہ، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ایک بارحضرت ِ سیِّدَتُناسارہ اور حضرتِ
(1)فتاویٰ عالمگیری، ج6، ص390