Brailvi Books

سود اور اس کا علاج
74 - 84
پانچواں علاج سود سے بچنے کا حیلہ:
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! جہاں تک ممکن ہو سکے سودی کاروبار سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ اس لئے کہ اگر ہم نے علم اور علماء کرام سے اپنا تعلق استوار رکھا ہوتا تو وہ یقیناً ہمیں سود کی نحوست سے بچاؤ کا کوئی حل تجویز فرماتے۔ چنانچہ، 
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 108 صَفحات پر مشتمل کتاب،”چندے کے بارے میں سوال جواب“ صَفْحَہ 65 تا 67  پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ حیلے کے شرعی دلائل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ حِیلَۂ شَرعی کا جواز قرآن و حدیث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب میں موجود ہے۔ چُنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا ایّوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کی بیماری کے زَمانے میں آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کی زَوجۂ محترمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایک بار خدمتِ سراپا عظمت میں تاخیر سے حاضِر ہوئیں تو آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ نے قسم کھائی کہ ”میں تندُرُست ہو کر 100 کوڑے ماروں گا۔“  صحّت یاب ہونے پر الله  عَزَّ   وَجَلَّ نے انہیں 100تیلیوں کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا۔( 1) 
(1)نور العرفان ص728۔  ملخّصاً