Brailvi Books

سود اور اس کا علاج
73 - 84
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب،”بہارِ شریعت“ کے حصہ 16 صَفْحَہ 121 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:”جب تک خریدوفروخت کے مسائل معلوم نہ ہوں کہ کون سی بیع جائز ہے اور کون ناجائز، اس وقت تک تجارت نہ کرے۔“ 
اور حضرت سیِّدُنا امیر المؤمنین فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کہ ہمارے بازار میں وہی شخص آئے جو دین میں فقیہ یعنی عالم ہو اور سود خور نہ ہو۔ (1 )
آہ صد افسوس! آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے، آج کل لوگ زبانِ قال سے نہ صحیح مگر زبانِ حال سے مَعَاذَ اللہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارے بازار میں صرف وہی شخص آئے جو سب سے بڑا دھوکے باز ہو۔ اَلْعَیَاذُ بِاللہ ۔ شریف آدمی کا تو گویا بازار میں داخلہ ہی ممنوع ہے۔ آج کل جس طرح حرام روزی اور سود کا ارتکاب کیا جاتا ہے کسی پر پوشیدہ نہیں۔ یقیناً اس کی بڑی وجہ علمِ دین اور سنتوں بھرے ماحول سے دوری ہے۔ تاجروں اور خریداروں سب کے لئے لازم ہے کہ جلد از جلد خرید و فروخت کے مسائل سیکھ لیں۔ ورنہ میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے آخرت میں ایک ایک ذرّے کا حساب ہو گا اورالله عَزَّوَجَلَّ کی پکڑ بڑی شدید ہے۔ 
(1) الجامع لاحکام القران للقرطبی، البقرۃ، تحت الایۃ:279،ج2،الجزء الثالث،ص267