Brailvi Books

سود اور اس کا علاج
69 - 84
وَالْمَرْءُ مُرْتَہِنٌ بِسَوْفَ وَلَیْتَ
وَھَلَاکُہٗ فِی السَّوْفِ وَاللَّیْتِ
ترجمہ: اور آدَمی (دنیاوی مقاصد کے حُصُول میں) اُمیدو رَجاء کے پھندے میں گرفتار ہے حالانکہ اِنہیں جھوٹی اُمیدوں میں اس کی ہلاکت پوشیدہ ہے۔  
فَلِلّٰہِ دُرُّ فَتیً تَدَبَّرَ اَمْرَہُ
فَغَدَا وَرَاحَ مُبَادِرَ الْمَوْتِ
ترجمہ: اُس جوان کا اَجْر الله  عَزَّ   وَجَلَّ (کے ذِمۂ  کرم ) پر ہے جس نے اپنے (قبر وآخِرت کے ) مُعاملے کی تدبیر کی اور صبح وشام موت کی تیّاری کرنے میں جلدی کی۔( 1)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!اے کاش! ہمارے پیشِ نظر موت کا تصور ہو جائے اور اس دنیا کی عارضی زندگی میں ہمیں مَدَنی سوچ نصیب ہو جائے۔اے کاش! مال جمع کرنے کی ہوس، ہم سب کے دلوں سے نکل جائے، اس مال ودنیا کی محبت نے ہمیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور ہمارا معاشرہ اس مال کی محبت میں سود جیسی لعنت میں مبتلا ہو گیاہے۔ 
آپ نے سود کی ہلاکت خیزیاں تو جان لیں، اے کاش! اگر ہمارے دل سے مال ، عمدہ تعمیرات اور جاہ و عزت کی طلب و محبت نکل جائے اور مال کی وہ صورت و معرفت جو بزرگوں کو حاصل تھی ہمیں نصیب ہو جائے۔ چنانچہ، 
(1)العقد الفرید، باب قولھم فی الموت،ج 3، ص 146