میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!عاشقانِ رسول کی صحبت اوراچّھوں کی مَحَبَّت نے ایک اَوباش آدمی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا! آپ بھی ہمیشہ اچّھی صُحبت اختیار کرنے اور اچّھوں سے مَحَبَّت رکھنے کا ذِہن بنالیجئے، مَدَنی قافِلے میں سفر کرنے والے خوش نصیبوں کو ان دونوں نعمتوں کے حُصول کا بہترین موقع نصیب ہو جاتا ہے۔ اچّھوں کی مَحَبَّت کے کیا کہنے! مگر اِس مَحَبَّت سے مقصود صِرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ہو، دُنیا وی یا کاروباری مَفاد کی وجہ سے یا کسی کی دِلرُبا اداؤں یا چٹ پٹی باتوں یاحُسن و جمال یا دولت و مال کی وجہ سے کی جانے والی مَحَبَّت اللہ کیلئے نہیں کہلاتی یہاں تک کہ صرف خونی رشتے کے جوش کے سبب ماں باپ ،اولادیا کسی رِشتے دار سے مَحَبَّت کرنا بھی کارِ ثواب نہیں، جب تک رِضائے الٰہی عزوجل پانے کی نیَّت نہ ہو ۔ ''اللہ عزوجل کی مَحَبَّت '' کے مُتَعلِّق وَضاحت کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں: کسی بندے سے صرف اس لیے مَحَبَّت کرے کہ رب تعالیٰ