کھیلنا وغیرہ میرے معمولات تھے ، انتِہائی غیر سنجیدہ اور والِدَین کا بھی حد درجہ نافرمان تھااَلغَرَض وہ کون سی بُرائی تھی جو مجھ میں نہیں تھی۔ ایسے میں فوج میں ملازِم ہوگیا۔ راولپنڈی سے کوئٹہ تبادُلہ ہوا، سارے راستے ٹرین میں مسافروں کو خوب تنگ کرتا ہوا پہنچا وہاں پہنچتے ہی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے ایک باعمامہ اسلامی بھائی سے ملاقات ہوگئی جو گلزارِ طیبہ (سرگودھا) کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے میرے اوپر انفرادی کوشِش کی اور مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں لے جانا شروع کردیا ، اُن کے حُسنِ اَخلاق اور پیاری پیاری سُنّتوں بھری باتوں سیمُتأَثِّر ہوکر میں نے سابِقہ تمام گناہوں سے توبہ کرلی اور اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مکمَّل طور پر مَدَنی ماحَول سے وابَستہ ہوں ، 30 دن کے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سفر کی سعادت بھی ملی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ بیان دیتے وَقت ایک شُعبے کی عَلاقائی مشاوَرت کے نگران کی حیثیت سے نَمازوں اور سنّتوں کی دھومیں مچا رہا ہوں۔