| سِیاہ فام غلام |
کی طرف مَحَبَّت بھری نظر سے دیکھے اور اُس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
(کَنْزُ الْعُمّال ج۹ ص ۵۷)
(9)جتنی بار ملاقات ہو ہر بار ہاتھ ملا سکتے ہیں (10) دونوں طرف سے ایک ایک ہاتھ ملانا سنّت نہیں مصافحہ دو ہاتھ سے کرنا سنّت ہے (11) بعض لوگ صِرف اُنگلیاں ہی آپس میں ٹکڑا دیتے ہیں یہ بھی سنت نہیں (12) ہاتھ ملانے کے بعد خود اپنا ہی ہاتھ چوم لینا مکروہ ہے۔ ہاتھ ملانے کے بعد اپنی ہتھیلی چوم لینے والے اسلامی بھائی اپنی عادت نکالیں
(بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص۱۱۵ ملخصاً)
(13) اگر اَمرَد (یعنی خوبصورت لڑکے) سے ہاتھ ملانے میں شہوت آتی ہو تو اس سے ہاتھ ملانا جائز نہیں بلکہ اگر دیکھنے سے شہوت آتی ہو تو اب دیکھنا بھی گناہ ہے
(درمختارج۲ ص۹۸ دار المعرفۃ بیروت )
(14)مُصافَحَہ کرتے (یعنی ہاتھ ملاتے) وقت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہئے۔
(بہارِ شريعت حصّہ ۱۶ص۹۸)
طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ