Brailvi Books

سِیاہ فام غلام
32 - 47
صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں عرض کیجئے کہ وہ موجود نہیں ہیں۔ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کافرمان آیا ہے کہ ان کو جلدی بلاؤ! غم کی ماری زَوجہ رو پڑی اور بولی: اے جابِر ! اب میں ان کو نہیں لا سکتی ۔ حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :آخِر بات کیا ہے؟ روتی کیوں ہو؟ زَوجہ نے اندر لے جا کر سارا ماجرا سُنایا اور کپڑا اُٹھا کرمَدَنی مُنّوں کو دکھایا، تو وہ بھی رونے لگے کیونکہ وہ ان کے حال سے بے خبر تھے۔ پس حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں ۲ کی ننھی ننھی لاشوں کو لا کر حُضُورِ انور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدموں میں رکھ دیا۔ اُس وقت گھر سے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ اللہ ربُّ العٰلَمِین عزوجل نے جِبرئیلِ امین علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا:اے جِبرئیل! میرے محبوب علیہ الصلوٰۃ و السلام سے کہو،اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:اے پیارے حبیب! تم دُعا کروہم ان کوزندہ کر دیں گے ۔ حُضُورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدَم،رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دُعا فرمائی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے حُکم سے