Brailvi Books

سِیاہ فام غلام
31 - 47
چھت سے گرا اور فوت ہو گیا۔ اُس صابِرہ خاتون نے چیخ وپکار اور کسی قسم کا واوَیلا نہ کیا کہ کہیں عظیمُ الشَّان، مہمان، سلطانِ دوجہان ، رَحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پریشان نہ ہو جائیں ، نہایت صَبرو ا ستِقلال سے دونوں کی ننھی لاشوں کو اندر لا کران پر کپڑا اُڑھا دیا اور کسی کو خبر نہ دی یہاں تک کہ حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی نہ بتایا۔ دل اگر چِہ صَدمہ سے خون کے آنسو رو رہا تھا مگر چہرے کو ترو تازہ وشِگُفتہ رکھا اور کھانا وغیرہ پکایا۔ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم تشریف لائے اور کھانا  آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کے آگے رکھا گیا ۔ اِسی وقت جِبرئیلِ امین علیہ السلام نے حاضِرہو کر عرض کی: یا رسولَ اللہ ! عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جابِر سے فرماؤ، اپنے فرزندوں کو لائے تا کہ وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ کھانا کھانے کا شَرَف حاصِل کر لیں۔ سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اپنے فرزندوں کو لاؤ ! وہ فوراً باہَر آئے اور زَوجہ سے پوچھا، فرزند کہاں ہیں؟ اُس نے کہا کہ حُضُور پُر نور