Brailvi Books

سِیاہ فام غلام
28 - 47
وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دربار ِ گہر بارمیں حاضِر ہوئے تو مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرہ پُرانوار پربھوک کے آثار دیکھے ۔گھر آکر زوجۂ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا :گھر میں کچھ کھانے کے لیے بھی ہے؟عرض کی: گھر میں ایک بکری اورتھوڑے سے جَو کے دانوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ بکری ذَبح کردی گئی ، جَوپیس کر روٹیاں پکاکرسالن میں بھگوکر ثَرِید تیّار کیا گیا۔ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے وہ ثَرید کا برتن اٹھا کرمدینے کے تاجور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ انور میں پیش کردیا۔ 

    رحمت عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے حکم دیا: ''اے جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !جاؤ لوگوں کو بُلا لاؤ ۔ ''جب صَحابۂ کرام علیھم الرضوان حاضرہوگئے تو ارشاد ہوا : میرے پاس تھوڑے تھوڑے بھیجتے جاؤ ۔چُنانچِہ صَحابۂ  کرام علیھم الرضوان حاضر ہوتے اورکھانا تناوُل فرما کر چلے جاتے، جب سب کھاناکھاچکے تو میں نے دیکھا کہ