کچھ نسبت نہیں اور نہ اُن کے اعمال کو اِن کے اعمال سے کوئی نسبت ہے کیونکہ کافر کے اعمال رائیگاں ہیں خواہ وہ حاجیوں کے لئے سبیل لگائیں یا مسجدِ حرام کی خدمت کریں ،ان کے اعمال کو مومن کے اعمال کے برابر قرار دینا ظلم ہے۔ (1) شانِ نزول: روزِ بدر جب حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گرفتار ہو کر آئے تو انہوں نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے کہا کہ تم کو اسلام اور ہجرت و جہاد میں سبقت حاصل ہے تو ہم کو بھی مسجدِ حرام کی خدمت اور حاجیوں کے لئے سبیلیں لگانے کا شرف حاصل ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آگاہ کیا گیا کہ جو عمل ایمان کے ساتھ نہ ہوں وہ بے کار ہیں۔ (2)
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ بِاَمْوٰلِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ ۙ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنۡدَ اللہِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال جان سے اللہ کی راہ میں لڑے اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے اور وہی مراد کو پہنچے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
{ وَجٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ:اورجنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔} جہاد کی تین صورتیں ہیں : (1) فقط جان سے جہاد کرنا۔ جیسے مَساکین کرتے تھے۔ (2) فقط مال سے جہاد کرنا۔ جیسا کہ معذور مالدار مومن کا عمل کہ غازی کو گھوڑا وغیرہ دے دیتے تھے۔ (3) جان و مال دونوں سے جہاد کرنا۔ جیسا کہ غنی قادر مسلمان جو کہ دوسرے مسکین غازیوں کو سامان بھی دیتے اور خود بھی میدا ن میں جاتے تھے اور ان کے اپنے جانے پر بھی خرچہ ہوتا۔ یہ آیتِ کریمہ ان تینوں مجاہدوں کو شامل ہے۔ اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں اگرچہ دونوں اللہ تعالیٰ کے پیارے اور دونوں کامیاب ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۴۳۰، ملخصاً۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲/۲۲۳۔