(6)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث میں ہے’’سات چیزیں ایسی ہیں جن کا ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا ہے، ان میں سے ایک مسجد تعمیر کرنا ہے۔ (1)
{ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللہَ:اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔} اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دینی معاملات میں اللہتعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور کسی کی رضا کو رضائے الٰہی پر کسی اندیشہ سے بھی مقدم نہیں کرتے۔ (2) اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے اور غیر سے نہ ڈرنے کے یہی معنی ہیں ، نیز یاد رہے کہ جن چیزوں سے انسان فطری طور پر ڈرتا ہے جیسے اندھیرا، درندے اور زہریلے جانور وغیرہ ان سے ڈرنا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے نہ ڈرنے کے خلاف نہیں کیونکہ یہ فطری خوف ہے اور اس سے بچنا انسان کے بس کی بات نہیں۔
اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ لَایَسْتَوٗنَ عِنۡدَ اللہِ ؕ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا تم نے حا جیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا تم نے حا جیوں کو پانی پلانے (والے) کو اور مسجدِ حرام کیخدمت کرنے (والے) کواس شخص کے برابر ٹھہرا لیا جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کوہدایت نہیں دیتا۔
{ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ:حا جیوں کو پانی پلانے (والے) کو۔} اس آیت سے مراد یہ ہے کہ کفار کو مؤمنین سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شعب الایمان، باب الثانی والعشرین من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی الاختیار فی صدقۃ التطوّع، ۳/۲۴۸، الحدیث: ۳۴۴۹۔
2…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۴۲۹۔