Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
83 - 576
یُبَشِّرُہُمْ رَبُّہُمۡ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَ رِضْوٰنٍ وَّجَنّٰتٍ لَّہُمْ فِیۡہَا نَعِیۡمٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۲۱﴾ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ اللہَ عِنۡدَہٗۤ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: ان کا رب انہیں خوشی سنا تا ہے  اپنی رحمت اور اپنی رضا اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور جنتوں کی بشارت دیتا ہے، ان کے لئے ان باغوں میں دائمی نعمتیں ہیں۔  وہ ہمیشہ ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ 
{ یُبَشِّرُہُمْ رَبُّہُمۡ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَ رِضْوٰنٍ وَّجَنّٰتٍ:ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور جنتوں کی بشارت دیتا ہے۔} علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : یہ اعلیٰ ترین بشارت ہے کیونکہ مالک کی رحمت و رضا بندے کا سب سے بڑا مقصد اور پیاری مراد ہے۔ (1)
راہِ خدا میں جہا د کرنے والے مسلمانوں کے لئے بڑی پیاری تین بشارتیں :
	اِس آیت میں ایمان قبول کرنے کے بعد ہجرت کرنے اور اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تین بڑی پیاری بشارتیں جمع کی گئی ہیں۔
(1،2)… انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رضا نصیب ہو گی۔حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرتا رہتا ہے، وہ اسی جُستجو میں رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام سے فرماتا ہے’’ میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے ، آگاہ رہو کہ اس پر میری رحمت ہے۔ تب حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام کہتے ہیں : فلاں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، یہ ہی بات عرش اٹھانے والے فرشتے کہتے ہیں ،یہ ہی ان کے اردگرد کے فرشتے کہتے ہیں حتّٰی کہ ساتویں آسمان والے یہ کہنے لگتے ہیں ،پھر یہ رحمت اس کے لیے زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۱، ۲/۲۲۴۔
2…مسند امام احمد، مسند الانصار، ومن حدیث ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ، ۸/۳۲۸، الحدیث: ۲۲۴۶۴۔