Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
64 - 576
 بیان کیا گیا تھا کہ آئندہ چار ماہ تک کافروں سے معاہدے برقرار رہیں گے اور اس کے بعد ختم ، اب یہاں فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے اور وہ معاہدے کے پابند ہیں اور انہوں نے معاہدے کو اس کی شرطوں کے ساتھ پورا کیاہے تو تم بھی ان سے معاہدہ پورا کرو اور چار مہینے پر معاہدہ ختم ہوجانے کا حکم ان کیلئے نہیں ہے۔ یہ لوگ بنی ضمرہ تھے جو کنانہ کا ایک قبیلہ ہے اور ان کی مدت کے نو مہینے باقی رہے تھے۔ (1)
فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ وَ خُذُوۡہُمْ وَ احْصُرُوۡہُمْ وَاقْعُدُوۡا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں  تو مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو  پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب حرمت والے مہینے گزرجائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں تم انہیں پا ؤاور انہیں پکڑلو اور قید کرلو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کاراستہ چھوڑ دو،بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{ فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشْہُرُ الْحُرُمُ:پھر جب حرمت والے مہینے گزرجائیں۔} یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد ان کفار کی امان کے مہینے ہیں جو مسلسل چار تھے لہٰذا یہ آیت منسوخ نہیں اور جن مہینوں میں جنگ ابتدائے اسلام میں حرام تھی وہ رجب، ذیقعد، ذی الحجہ اور محرم ہیں اب ان میں جہاد جائز ہے چونکہ یہاں مذکور معاہدے کی تکمیل والے چار مہینوں میں اُن کفار سے جنگ حرام تھی اس لئے انہیں اَشْہُرِ حرام فرمایا گیا۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۳/۷۸۶۔
2…روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۳/۳۸۷۔