Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
63 - 576
 روایات سے اس دن کا حجِ اکبر ہونا ثابت ہے بلکہ ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس دن کے حجِ اکبر ہونے کے ثبوت میں ’’اَلْحَظُّ الْاَوْفَرْ فِی الْحَجِّ الْاَکْبَرْ‘‘ کے نام سے ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔ تفسیر کی کتابوں میں حجِ اکبر سے متعلق امام ابنِ سیرین  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ ’’ حجِ اکبر وہ حج ہے کہ جو اس دن کے مُوافق ہو جس دن رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور تمام اَعراب نے حج کیا تھا۔ (1) 
	 اس کے علاوہ امام ابن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا یہ قول تفسیر بغوی،جلد 2،صفحہ226، تفسیرقرطبی، جلد4، صفحہ9، جزء8،البحر المحیط،جلد5،صفحہ10اوردر منثور ،جلد4،صفحہ128 پر بھی مذکور ہے۔ تفسیر خازن میں ہے ’’جو حج تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حج کے موافق ہو اسے حجِ اکبر کہا گیا ہے اور یہ دن جمعہ کا دن تھا۔ (2) 
اِلَّا الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ثُمَّ لَمْ یَنۡقُصُوۡکُمْ شَیْـًٔا وَّلَمْ یُظٰہِرُوۡا عَلَیۡکُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوۡۤا اِلَیۡہِمْ عَہۡدَہُمْ اِلٰی مُدَّتِہِمْ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: مگر وہ مشرک جن سے تمہارا معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہ کی اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی  تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: مگر وہ مشرکین جن سے تمہارا معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے معاہدے میں کوئی کمی نہیں کی اور تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد نہیں کی تو ان کا معاہدہ ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو، بیشک اللہپرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔ 
{ ثُمَّ لَمْ یَنۡقُصُوۡکُمْ شَیْـًٔا:پھر انہوں نے تمہارے معاہدے میں کوئی کمی نہیں کی۔} اس سورت کے شروع میں چونکہ یہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر طبری، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۶/۳۱۳۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۲/۲۱۷۔