{ فَاِنۡ تَابُوۡا:پھر اگر وہ توبہ کریں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی نبوت کا انکار کرنے سے منع کیا گیا تھا،اگر کفار ان کاموں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کر لیں ،بتوں کی پوجا چھوڑ کر اخلاص کے ساتھ اللہتعالیٰ کی عبادت کریں ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا اقرار کر لیں ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی فرضیت کو مان لیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور ان کی جان و مال کے درپے نہ ہو ۔ جو بندہ توبہ کرتا ہے ،گزشتہ گناہوں کو چھوڑ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں لگ جاتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرماتا اور اس کے گناہ چھپا دیتا ہے ۔ توبہ سے پہلے کئے ہوئے گناہوں پر توبہ کے بعد سزا نہ دے کر اس پر رحم فرماتا ہے۔ (1)
وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیۡنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاۡمَنَہٗ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوۡنَ ٪﴿۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو حتّٰی کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔
{ وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیۡنَ:اور اگر کوئی مشرک ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اگر کوئی مشرک مہلت کے مہینے گزرنے کے بعد آپ سے پناہ مانگے تاکہ آپ سے توحید کے مسائل اور قرآنِ پاک سنے جس کی آپ دعوت دیتے ہیں تو اسے پناہ دے دیں حتّٰی کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام سنے اور اسے معلوم ہو جائے کہ ایمان قبول کرنے کی صورت میں اسے کیا ثواب ملے گا اور کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے اس پر کیا عذاب ہو گا اور اگر ایمان نہ لائے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۶/۳۲۸، احکام القرآن للجصاص، سورۃ التوبۃ، ۳/۱۰۶، صاوی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳/۷۸۸، ملتقطاً۔