Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
48 - 576
 وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں بھلائی جانی تو جو تم سے لیا گیا اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے نبی !جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ،اگر اللہ تمہارے دل میں بھلائی دیکھے گا تو جو مال تم سے لیا گیااس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
{ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ:اے نبی۔} شانِ نزول: یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے چچا ہیں۔یہ کفارِ قریش کے ان دس سرداروں میں سے تھے جنہوں نے جنگِ بدر میں لشکرِ کفار کے کھانے کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اس خرچ کے لئے بیس اوقیہ سونا ساتھ لے کر چلے تھے لیکن ان کے ذمے جس دن کھلانا تجویز ہوا تھا خاص اسی روز جنگ کا واقعہ پیش آیا اور قِتال میں کھانے کھلانے کی فرصت ومہلت نہ ملی تو یہ بیس اوقیہ سونا ان کے پاس بچ رہا، جب وہ گرفتار ہوئے اور یہ سونا ان سے لے لیا گیا تو انہوں نے درخواست کی کہ یہ سونا ان کے فدیہ میں شمار کرلیا جائے مگر رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے انکار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو چیز ہماری مخالفت میں صَرف کرنے کے لئے لائے تھے وہ نہ چھوڑی جائے گی اور حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر ان کے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کے فدیئے کا بار بھی ڈالا گیا تو حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا :یا محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) تم مجھے اس حال میں چھوڑو گے کہ میں باقی عمر قریش سے مانگ مانگ کر بسر کیا کروں تو حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ پھر وہ سونا کہاں ہے جس کو تمہارے مکہ مکرمہ سے چلتے وقت تمہاری بیوی ام الفضل نے دفن کیا تھا اور تم ان سے کہہ کر آئے ہو کہ خبر نہیں ہے مجھے کیا حادثہ پیش آئے، اگر میں جنگ میں کام آجائوں تو یہ تیرا ہے اور عبداللہ اور عبیداللہ کا اور فضل اور قثم کا (سب ان کے بیٹے تھے) حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ