Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
47 - 576
 تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں اور اس کے لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کوشش بھی کی، جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ   اس کی نماز جنازہ پڑھا کر واپس ہوئے تو یہ آیت نازل ہو گئی 
’’ وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ؕ اِنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَمَاتُوۡا وَہُمْ فٰسِقُوۡنَ ‘‘ (1)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور نافرمانی کی حالت میں مرگئے۔
فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۶۹﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہبخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس سے کھاؤ جوحلال پاکیزہ غنیمت تمہیں ملی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 
{ فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا:تو اس سے کھاؤ جوحلال پاکیزہ غنیمت تمہیں ملی ہے۔} جب اوپر کی آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے جو فدیئے لئے تھے ان سے ہاتھ روک لئے، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بیا ن فرمایا گیا کہ تمھاری غنیمتیں حلال کی گئیں ، انھیں کھاؤ ۔ (2)
	صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کر دیا گیا جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے بھی حلال نہیں کیا گیا۔ (3)
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّمَنۡ فِیۡۤ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنَ الۡاَسْرٰۤی ۙ اِنۡ یَّعْلَمِ اللہُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ خَیۡرًا یُّؤْتِکُمْ خَیۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ؕ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…توبہ:۸۴.
2…خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۹، ۲/۲۱۱.
3…بخاری، کتاب التیمم، باب التیمم، ۱/۱۳۳، الحدیث: ۳۳۵، مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، ص۲۶۵، الحدیث: ۳(۵۲۱).