Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
49 - 576
 نے خبردار کیا ہے ۔اس پر حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ سچے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میرے اس راز پراللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی مُطَّلع نہ تھا اور حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بھتیجوں عقیل و نوفل کو حکم دیا وہ بھی اسلام لائے۔ (1) 
{یُّؤْتِکُمْ خَیۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡکُمْ:جو (مال) تم سے لیا گیااس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا۔} جب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے پاس بَحرَین کا مال آیا جس کی مقدار اسی ہزار تھی تو حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے نمازِ ظہر کے لئے وضو کیا اور نماز سے پہلے ہی کل مال تقسیم کردیا اور حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ اس میں سے لے لو تو جتنا ان سے اٹھ سکا، اتنا انہوں نے لے لیا۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ اس سے بہتر ہے کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے لیا اور میں اس کی مغفرت کی امید رکھتا ہوں۔ اپنے مال و دولت کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیس اوقیہ سونے کے بدلے بیس غلام عطا کئے، وہ سب کے سب تاجر تھے اور بہت سارا مال کما کر دیتے تھے، ان میں سے جو غلام سب سے کم کما کر دیتا تھا اس کی مقدار بیس ہزار درہم تھی۔(2)
وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللہَ مِنۡ قَبْلُ فَاَمْکَنَ مِنْہُمْ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
{ وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡا خِیَانَتَکَ:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔} اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۰، ۲/۲۱۱.
2…مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۰، ص۴۲۱، بغوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۰، ۲/۲۲۱، ملتقطاً.