Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
466 - 576
وَامْرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنٰہَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوۡبَ ﴿۷۱﴾ قَالَتْ یٰوَیۡلَتٰۤیءَ اَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّہٰذَا بَعْلِیۡ شَیۡخًا ؕ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ﴿۷۲﴾

ترجمۂکنزالایمان: اور اس کی بی بی کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی۔  بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے بیشک یہ تو اچنبھے کی بات ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کی بیوی (وہاں ) کھڑی تھی تو وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی۔ کہا: ہائے تعجب! کیا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا حالانکہ میں تو بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ بیشک یہ بڑی عجیب بات ہے۔ 
{ وَامْرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ:اور ان کی بیوی کھڑی تھی۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زوجۂ محترمہ حضرت سارہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپسِ پردہ کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھیں تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاہنسنے لگیں۔ مفسرین نے ان کی ہنسی کے مختلف اَسباب بیان کئے ہیں۔
(1)…حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی ہلاکت کی خوشخبری سن کر ہنسنے لگیں۔
(2)…  بیٹے کی بشارت سن کر خوشی سے ہنسنے لگیں۔
(3)… بڑھاپے میں اولاد پیدا ہونے کا سن کر تعجب کی وجہ سے ہنسنے لگیں ، ا س کے علاوہ اور بھی اَقوال ہیں۔
	اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکو ان کے بیٹے حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خوشخبری دی اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد ان کے بیٹے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بھی خوشخبری دی۔ حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کو خوشخبری دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو مَردوں سے زیادہ ہوتی ہے، نیز یہ بھی سبب تھا کہ حضرت سارہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے فرزند حضرت