(2)… فرشتوں کو رب تعالیٰ نے غیب کا علم بخشا ہے جس سے وہ آئندہ کی خبریں دیتے ہیں۔
(3)… ملاقات کے وقت سلام کرنا سنتِ ملائکہ اور سنتِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہے۔
(4)… سنت یہ ہے کہ آنے والا سلام کرے ۔
نوٹ: حضرت ابراہیم اور حضرت لوط عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے یہ واقعات اس سورت کے علاوہ سورۂ حجر آیت نمبر 51تا 77 اور سورۃ الذاریات آیت نمبر 24 تا 37 میں بھی مذکور ہیں۔
فَلَمَّا رَآٰ اَیۡدِیَہُمْ لَا تَصِلُ اِلَیۡہِ نَکِرَہُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَاتَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰی قَوْمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگا بولے ڈرئیے نہیں ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب دیکھا کہ ان (فرشتوں ) کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو ان سے وحشت ہوئی اور ان کی طرف سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا: آپ نہ ڈریں۔بیشک ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
{ فَلَمَّا رَآٰ:پھر جب دیکھا ۔} یعنی جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ بچھڑے کے بھنے ہوئے گوشت کی طرف نہیں بڑھ رہے تو کھانا نہ کھانے کی وجہ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان سے وحشت ہوئی اور دل میں ان کی طرف سے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔ فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے کہا: آپ نہ ڈریں کیونکہ ہم فرشتے ہیں اور حضرت لوط عَلَیْہِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور فرشتے ہونے کی وجہ سے ہم کھانا نہیں کھارہے تھے۔(1)
اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے کھانے سے پاک ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۷۰، ۲/۳۶۱، بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۷۰، ۳/۲۴۵، ملتقطاً