سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو پھر شرک سے کنارہ کشی کر کے اسی کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب عَزَّوَجَلَّ ایمان والوں کے قریب ہے اور ان کی سننے والا ہے۔امام ضحاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ’’اِسْتَعْمَرَکُمْ‘‘ کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ تمہیں طویل عمریں دیں حتّٰی کہ ان کی عمریں تین سو برس سے لے کر ہزار برس تک ہوئیں۔ (1)
نوٹ:حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ثمود کے واقعے کی بعض تفصیلات سورۂ اَعراف آیت نمبر 73 تا 79 میں گزر چکی ہیں۔
قَالُوۡا یٰصٰلِحُ قَدْکُنۡتَ فِیۡنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ہٰذَاۤ اَتَنْہٰىنَاۤ اَنۡ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیۡ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ مُرِیۡبٍ ﴿۶۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولے اے صا لح اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکہ ڈالنے والے شک میں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: اے صا لح! اس سے پہلے تم ہمارے درمیان ایسے تھے کہ تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ کیا تم ہمیں اُن کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے اور بیشک جس کی طرف تم ہمیں بلارہے ہو اس کی طرف سے تو ہم بڑے دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔
{ قَالُوۡا:انہوں نے کہا۔} جب حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کے سامنے پیغامِ توحید پیش کیا تو انہوں نے جواب دیا ’’ اے صا لح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اس تبلیغ سے پہلے تم توہمارے درمیان ایسے تھے کہ ہمیں تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے سردار بنو گے کیونکہ تم کمزوروں کی مدد کرتے اور فقیروں پر سخاوت کرتے تھے، لیکن جب تم نے توحید کی دعوت دی اور بتوں کی برائیاں بیان کیں تو قوم کی اُمیدیں تم سے ختم ہوگئیں۔ ان لوگوں نے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۶۱، ۳/۲۴۲، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶۱، ۲/۳۵۹، ملتقطاً۔