کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے برے انجام کا اصلی سبب بیان فرمایا کہ قومِ عاد نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کفر کیا اس لئے ان کا اتنا برا انجام ہوا، سن لو! حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم عاد کے لئے رحمتِ الٰہی سے دوری ہے۔ (1)
وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ ہُوَ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَکُمْ فِیۡہَا فَاسْتَغْفِرُوۡہُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ قَرِیۡبٌ مُّجِیۡبٌ ﴿۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسایا تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کوبھیجا۔ فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی میں تمہیں آباد کیا تو اس سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو ۔ بیشک میرا رب قریب ہے ،دعا سننے والا ہے۔
{ وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا:اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کوبھیجا۔} اس سورت میں مذکور واقعات میں سے یہ تیسرا واقعہ ہے، اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کی طرف ان کے نسبی بھائی حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجا، حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم!تم اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ،صرف وہی عبادت کا مستحق ہے جبکہ تمہارے یہ بت عبادت کے لائق ہی نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی کمالِ قدرت پر دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ معبود وہی ہے جس نے تمہارے باپ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو زمین سے پیدا کرکے پھرتمہیں زمین میں بسایا اور زمین کو تم سے آباد کیا تو اللہ تعالیٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۶۰، ۶/۳۶۷۔