مزید یہ کہا کہ کیا تم ہمیں ان بتوں کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے اور بیشک جس توحید کی طرف تم ہمیں بلارہے ہو اس کی طرف سے تو ہم بڑے دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔ (1)
قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیۡتُمْ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَاٰتٰىنِیۡ مِنْہُ رَحْمَۃً فَمَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللہِ اِنْ عَصَیۡتُہٗ ۟ فَمَا تَزِیۡدُوۡنَنِیۡ غَیۡرَ تَخْسِیۡرٍ ﴿۶۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی تو مجھے اس سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو تم مجھے سوا نقصان کے کچھ نہ بڑھاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا: اے میری قوم! بھلا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائی ہو تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اس سے کون بچائے گا ؟ تم نقصان پہنچانے کے سوا کچھ اور نہیں بڑھاؤ گے۔
{ قَالَ یٰقَوْمِ:فرمایا: اے میری قوم!} حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو جواب دیتے ہوئے فرمایا’’ اے میری قوم! مجھے بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے روشن دلیل پر اور منصبِ نبوت پر فائز ہوں ، اس کے باوجود میں بالفرض تمہاری پیروی کروں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کروں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکتا اور اس طرح میں نقصان اٹھانے والا اور جو منصب اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا میں ا سے ضائع کرنے والا ہو جاؤں گا، کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے کفر کیا ہو۔ (2)تمہاری بات ماننا خسارے میں پڑنے کے سوا کچھ نہیں۔
وَ یٰقَوْمِ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلْ فِیۡۤ اَرْضِ اللہِ وَ لَا تَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیۡبٌ ﴿۶۴﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۶۲، ۶/۳۶۸، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶۲، ۲/۳۵۹، ملتقطاً۔
2…صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۶۳، ۳/۹۲۱۔