Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
377 - 576
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اے سننے والے! اگر تجھے اس میں کوئی شک ہو جو ہم نے تیری طرف اتارا ہے تو ان سے پوچھ لو جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں ، بیشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیاتو تُو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔ اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا۔
{ فَاِنۡ کُنۡتَ فِیۡ شَکٍّ:تو اے سننے والے! اگر تجھے کوئی شک ہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! اگر تمہیں ان قصوں میں کچھ تردد ہو جو ہم نے اپنے رسول محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے واسطے سے تمہیں بیان کئے ہیں تو تم  علمائے اہلِ کتاب جیسے حضرت عبداللہبن سلام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور ان کے ساتھیوں سے پوچھ لو تاکہ وہ تمہیں سرورِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا اطمینان دلائیں اور آپ کی نعت و صفت جو توریت میں مذکور ہے وہ سنا کر شک دور کردیں۔ بیشک تیرے پاس تیرے رب عَزَّوَجَلَّکی طرف سے وہ حق آیا جو اپنے واضح دلائل سے اتنا روشن ہے کہ اس میں شک کی مجال نہیں لہٰذا تو ہر گز شک کرنے والوں میں سے نہ ہواور ہرگز ان لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی واضح دلیلوں کو جھٹلایا ورنہ تو اپنی جانوں کو خسارے میں ڈال کر نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ (1)
اِنَّ الَّذِیۡنَ حَقَّتْ عَلَیۡہِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾ وَلَوْ جَآءَتْہُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۹۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑچکی ہے ایمان نہ لائیں گے۔ اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جن لوگوں پر تیرے رب کی بات پکی ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اگرچہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جلالین، یونس، تحت الآیۃ: ۹۴، ص۱۷۸، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۴، ۲/۳۳۴-۳۳۵، ملتقطاً۔