{ اِنَّ الَّذِیۡنَ حَقَّتْ عَلَیۡہِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ:بیشک جن لوگوں پر تیرے رب کی بات پکی ہوچکی ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ قول ان پر ثابت ہوچکا جو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور جس کی ملائکہ نے خبر دی ہے کہ یہ لوگ کافر مریں گے اور جب تک وہ موت کے وقت یا قیامت میں دردناک عذاب نہ دیکھ لیں گے ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آجائیں اور اس وقت کا ایمان نہ نفع بخش ہے اور نہ مقبول۔ (1)
فَلَوْ لَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَاۤ اِیۡمٰنُہَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوۡنُسَؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الۡخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۹۸﴾ ترجمۂکنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔
{ فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔} یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (2)
{ اِلَّا قَوْمَ یُوۡنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔} حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدار ک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۶، ص۴۸۵۔
2…مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶۔