حجاب ہے ،چنانچہ علم کے باوجود گمراہ ہوجانے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
’’ وَ اَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ نے اسے علم کے باوجودگمراہ کردیا۔
اور جو علم معرفتِ الٰہی کا ذریعہ ہو ، وہ رحمت ہے ، جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا
’’ وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور عرض کرو: اے میرے رب!میرے علم میں اضافہ فرما۔
{ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیۡ بَیۡنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ِ:بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، یہودی دنیا میں آپ کی نبوت کے معاملے میں جھگڑ رہے ہیں ،قیامت کے دن آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ان میں عملی طور پر اس طرح فیصلہ کر دے گا کہ آپ پر ایمان لانے والوں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور آپ کا انکار کرنے والوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ (3)
فَاِنۡ کُنۡتَ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ فَسْـَٔلِ الَّذِیۡنَ یَقْرَءُوۡنَ الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکَ ۚ لَقَدْ جَآءَکَ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾ وَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللہِ فَتَکُوۡنَ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿۹۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اے سننے والے اگر تجھے کچھ شبہہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف اتارا تو ان سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں بیشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا تو تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔ اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں کہ تو خسارے والوں میں ہوجائے گا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الجاثیہ:۲۳۔ 2…طہ:۱۱۴۔
3…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۳، ۲/۳۳۳۔