ترجمۂکنزالایمان: اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق گزرا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا تو مل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کرلو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک نہ رہے پھر جو ہو سکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم اگر میرا قیام کرنا اور میرا اللہ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کرنا تم پر بھاری ہے تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا تو تم اپنا کام اور اپنے شریکوں کو جمع کرلو پھر تمہارا کام تم پر پوشیدہ نہ رہے پھر میرے بارے میں جو کچھ کرسکتے ہو کرلو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔
{ وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ نُوۡحٍ:اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کے اَحوال اور ان کے کفر و عناد کو بیان فرمایا اس کے بعد اب ان آیات سے اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات اور جو کچھ ان کی امتوں کے ساتھ پیش آیا اس کا بیان شروع فرمایا ہے، گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالاتِ زندگی بتاکر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا مقصود ہے تاکہ کفارِ قریش کی طرف سے پہنچنے والی اَذیت کی تکلیف آسان ہو نیز ان واقعات اور ماضی میں کفر کرنے والی امتوں پر آنے والے عذاب اور دنیا میں ان کی ہلاکت کا بیان کفارِ قریش کے لئے قلبی خوف کا سبب ہو اور وہ ایمان قبول کرنے کی طرف مائل ہوں اور چونکہ سب سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر ان کے کفر و سرکشی کی وجہ سے عذاب آیا اس لئے یہاں ان کا ذکر پہلے فرمایا گیا۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دیکھا کہ ان کا اپنی قوم کے درمیان مدتِ دراز تک ٹھہرنا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کرنا انہیں ناگوار گزراہے اوراس پر انہوں نے مجھے قتل کر دینے اور اپنے علاقے سے نکال دینے کا ارادہ کیا ہے تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی پر کامل بھروسہ ہے اور میں نے اپنے معاملات اسی کے سپرد کر دئیے ہیں ، تم میری مخالفت میں اور مجھے اِیذاء پہنچانے کیلئے جس قدر اَسباب جمع کر سکتے ہو کر لوبلکہ اپنے باطل معبودوں کو بھی ملا لو اور تمہاری یہ سازش پوشیدہ نہ رہے بلکہ علی الاعلان سب کچھ کرو، پھر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ کلام انہیں عاجز کر دینے کے طور پر تھا،مُدَّعا یہ ہے کہ مجھے اپنے قوی وقادر پروردگار عَزَّوَجَلَّ پر کامل بھروسہ ہے تم اور تمہارے بے اختیار