معبود مجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ (1)
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکامختصر تعارف:
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دنیا میں چوتھے نبی اور پہلے رسول ہیں۔ آپ کا نام یَشْکُرْ اور لقب نوح ہے کیونکہ آپ خوفِ الٰہی سے نوحہ و گریہ بہت کرتے تھے۔ آپ آدمِ ثانی کہلاتے ہیں کیونکہ طوفانِ نوح کے بعد آپ ہی سے نسلِ انسانی چلی۔ قرآنِ پاک میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تبلیغ کے واقعات کو متعدد جگہ کافی تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔
آیت ’’ وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ نُوۡحٍ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے پانچ چیزیں معلوم ہوئیں :
(1)… انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نہایت شُجاع، بہادر ، جَری، باہمت اور اُولُوالعزم ہوتے ہیں ، جیسے یہاں ایک طرف پوری قوم دشمن اور مخالف ہے اور دوسری طرف تنِ تنہا صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بھروسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کس قدرت جرأت کے ساتھ مخالفین کو پکار رہے ہیں۔ اسی سے معلوم ہوا کہ قادیانی نبی نہیں تھا کیونکہ وہ انتہا درجے کا ڈرپوک تھا، ساری زندگی اسی ڈر سے حج کو نہ گیا اور جہاں جانے سے اسے نقصان پہنچنے کا خوف ہوتا تھا وہاں نہ جاتا تھا۔
(2)… لوگوں کی ایذاء کی وجہ سے تبلیغ سے کنارہ کشی نہیں کرنی چاہیے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تکالیف برداشت کرنے کے باوجود ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ فرمائی۔
(3)… تبلیغِ دین کیلئے جرأت اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے، بُزدل اور ڈرپوک آدمی تبلیغ کا حق ادا نہیں کرسکتا۔
(4)…انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اولیاءِ عِظام اور صالحین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے سچے واقعات پڑھنا سننا عبادت ہے۔ اس لئے آیات ِ قرآنیہ کے ذریعے اور سیرت و واقعات کی کتابوں کے ذریعے بزرگانِ دین کی سیرت سے واقفیت حاصل کرتے رہنا چاہیے۔
(5)…یہ بھی معلوم ہوا کہ تاریخ کا علم بھی بہت عمدہ ہے کہ اس میں عبرت پوشیدہ ہوتی ہے البتہ تاریخ وہی پڑھی جائے جو حقائق پر مبنی ہو۔ آج کل ظالموں کو عادل، مسلمانوں کو قتل کرنے والوں کو مجاہد اور اُمت کو تباہ کرنے والوں کو امت کا مُصلِح و مُحسن بنا کر پیش کرنا عام ہے۔ ایسی تاریخ سے دور رہنا ہی مناسب ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷۱، ۲/۳۲۵-۳۲۶، ملخصاً۔