میں کامیاب نہ ہوں گے بلکہ ناکام و نامُراد ہوں گے، اگرچہ ان پر نعمتوں کی بہتات ہو لیکن انجامِ کار زوال ہی ہے۔ (1)
مَتٰعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ نُذِیۡقُہُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیۡدَ بِمَاکَانُوۡا یَکْفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: دنیا میں کچھ برت لینا ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کے بدلے میں شدیدعذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
{ مَتٰعٌ فِی الدُّنْیَا:دنیا میں تھوڑا سافائدہ اٹھانا ہے۔}اس آیت میں کچھ لوگوں کے اِس شُبہے کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھنے والے بہت سے افراد عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور دنیاوی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو وہ ناکام کہاں سے ہوئے؟ ان کے شبہ کے ازالے کیلئے فرمایا گیا کہ یہ عارضی آرام ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار انجام کا ہے اور ان کاانجام خراب ہی ہے ۔ (2)
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ نُوۡحٍ ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَتَذْکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللہِ فَعَلَی اللہِ تَوَکَّلْتُ فَاَجْمِعُوۡۤا اَمْرَکُمْ وَشُرَکَآءَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیۡکُمْ غُمَّۃً ثُمَّ اقْضُوۡۤا اِلَیَّ وَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۷۱﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۹، ۳/۸۸۳۔
2…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۷۰، ۳/۸۸۳۔